تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی| جب تاریخِ اسلام کے صفحات پر نظر ڈالی جاتی ہے تو ایک ایسی عظیم ہستی کا نام سامنے آتا ہے جس کی زندگی نورِ نبوت سے روشن، جس کا کردار عصمت و طہارت کا مظہر، جس کی عبادت بندگی کی معراج اور جس کی مظلومیت دلِ انسانیت کے لیے ایک دردناک داستان ہے۔ یہ ہستی حضرت فاطمہ زہراء کی ہے، جو رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لختِ جگر، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شریکِ حیات اور حسنین کریمین علیہما السلام کی مادرِ گرامی ہیں۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات کو سمجھنا صرف ایک عظیم خاتون کی سیرت کا مطالعہ نہیں، بلکہ اس گھرانے کی معرفت حاصل کرنا ہے جسے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی محبت، اپنی تعلیمات اور اپنی امت کی ہدایت سے وابستہ فرمایا۔ آپؑ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی عظمت مال و دولت، ظاہری اقتدار اور دنیاوی شہرت میں نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، علم، کردار اور حق کے لیے استقامت میں پوشیدہ ہے۔
ایامِ فاطمیہ انہی حقائق کی یاد تازہ کرنے کے ایام ہیں۔ یہ ایام صرف غم و اندوہ کے اظہار تک محدود نہیں، بلکہ اپنے ایمان کا جائزہ لینے، اپنی اخلاقی کمزوریوں کو پہچاننے اور سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کا موقع بھی ہیں۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپؑ سے غیر معمولی محبت فرماتے تھے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل ہوا ہے:
«فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي»
ترجمہ: فاطمہ میرا حصہ ہیں؛ جس نے انہیں ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔
یہ فرمان محض ایک باپ کی اپنی بیٹی سے محبت کا اظہار نہیں، بلکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے عظیم مقام اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپؑ کی خاص نسبت کو ظاہر کرتا ہے۔
اسلام نے عورت کو جو عزت عطا کی، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اس عزت کی روشن مثال ہیں۔ آپؑ نے ثابت کیا کہ ایک خاتون علم و معرفت میں بلند مقام حاصل کر سکتی ہے، عبادت و بندگی میں نمونہ بن سکتی ہے، اپنے خاندان کی بہترین تربیت کر سکتی ہے اور اجتماعی مسائل میں حق و انصاف کے لیے اپنا موقف بھی پیش کر سکتی ہے۔
قرآن مجید میں آیتِ تطہیر ارشاد ہوتی ہے:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا۔
ترجمہ: اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں پوری طرح پاک و پاکیزہ رکھے۔ (سورۂ احزاب، ۳۳:۳۳)
شیعہ تفسیری روایت میں اس آیت کو اہلِ کساء، یعنی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کی فضیلت سے مربوط کیا جاتا ہے۔ یہ آیت اہلِ بیتؑ کی معرفت اور ان کے روحانی مقام کے مطالعے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
دخترِ رسولؐ اور محبتِ نبویؐ
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کا ہر دور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گہری وابستگی کی گواہی دیتا ہے۔ آپؑ نے بچپن ہی سے اپنے والدِ گرامی کو دعوتِ اسلام کی مشکلات اور مخالفین کی اذیتوں کا سامنا کرتے دیکھا۔ آپؑ کی زندگی میں والد کے لیے محبت بھی تھی، خدمت بھی، وفاداری بھی اور دینِ خدا کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی بھی۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے ایک عظیم صدمہ تھی۔ جس ہستی کے وجود سے آپؑ کو سکون ملتا تھا، جس کی محبت آپؑ کی زندگی کا مرکز تھی، اس کی جدائی نے آپؑ کے دل کو غم سے بھر دیا۔
لیکن رسولؐ کی رحلت کے بعد پیش آنے والے حالات نے اس غم کو مزید گہرا کر دیا۔ اسلامی تاریخ کے اس مرحلے میں اہلِ بیتؑ کے مقام، خلافت، حقوق اور فدک جیسے مسائل پر اختلافات پیدا ہوئے۔ شیعہ روایت ان واقعات کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت اور اہلِ بیتؑ کے حقوق کے تناظر میں دیکھتی ہے، جب کہ بعض دیگر تاریخی تعبیرات میں واقعات کی تفصیلات مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں۔
ان تاریخی اختلافات کا مطالعہ کرتے ہوئے علمی دیانت ضروری ہے، لیکن حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے احترام، آپؑ کی محبت اور آپؑ کے مقام کی عظمت ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے۔
فدک: ایک زمین سے بڑھ کر حق و انصاف کا مسئلہ
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کے آخری دور میں فدک کا مسئلہ خاص اہمیت اختیار کر گیا۔ فدک ایک زرعی علاقہ تھا جس کی ملکیت اور آمدنی کے بارے میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اختلاف پیدا ہوا۔
شیعہ روایت کے مطابق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے فدک کے سلسلے میں اپنا حق طلب کیا اور اس مسئلے پر اپنا موقف دلیل کے ساتھ پیش فرمایا۔ ابتدائی حدیثی و تاریخی مآخذ میں بھی فدک اور میراث کے معاملے کا ذکر ملتا ہے، اگرچہ ان واقعات کی تشریح اور قانونی نتائج کے بارے میں مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اختلاف موجود ہے۔
فدک کے مسئلے کو صرف ایک زمین یا مالی منفعت کا معاملہ سمجھنا اس کی تاریخی اہمیت کو محدود کر دیتا ہے۔ اس مسئلے میں حقِ ملکیت، میراث، گواہی، قانونی استدلال اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیتؑ کے حقوق جیسے اہم پہلو شامل ہیں۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے منسوب خطبۂ فدکیہ اسی پس منظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس خطبے میں توحید، رسالت، عبادت، قرآن، معاشرتی ذمہ داری اور حقوق کے بارے میں گہرے مضامین بیان ہوئے ہیں۔ یہ خطبہ اس بات کی علامت ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے موقف کو علمی اور استدلالی انداز میں پیش کیا۔
آپؑ کی شخصیت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کے لیے آواز بلند کرنا، اپنے جائز حقوق کا دفاع کرنا اور دلیل کے ساتھ اپنا موقف بیان کرنا اخلاقی جرأت کا حصہ ہے۔ حق گوئی کے لیے ضروری نہیں کہ انسان کے پاس دنیاوی اقتدار ہو؛ کبھی ایک سچی آواز پوری تاریخ کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔
شہادتِ زہرا سلام اللہ علیہا اور مظلومیت کی داستان
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت اسلامی تاریخ کے حساس ترین موضوعات میں سے ہے۔ آپؑ کی وفات کے اسباب اور اس دور کے بعض واقعات کے بارے میں مختلف مذہبی و تاریخی روایات موجود ہیں۔ شیعہ عقیدے میں آپؑ کی شہادت اور مظلومیت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔
ان ایام میں جب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا ذکر کیا جاتا ہے تو دل غمگین ہو جاتے ہیں۔ تصور کیجیے، وہ ہستی جس کے والد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، جس کے گھرانے کو آیتِ تطہیر سے نسبت حاصل ہے، جس کے فضائل خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائے، اسی ہستی نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں شدید رنج و غم کا سامنا کیا۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا معاشرے میں کسی فرد کی حقانیت کا معیار اس کی ظاہری قوت ہے یا اس کے موقف کی صداقت؟ کیا حق کی حمایت صرف اسی وقت کی جانی چاہیے جب وہ مقبول ہو، یا اس وقت بھی جب اس کے لیے تنہائی اور مخالفت برداشت کرنا پڑے؟
آپؑ کی زندگی ان سوالات کے سامنے ہمیں حق، عدل اور ذمہ داری کی اہمیت یاد دلاتی ہے۔
البتہ ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے معتبر تاریخی مآخذ کی طرف رجوع کرنا، مختلف روایات کو ان کے سیاق میں سمجھنا اور غیر مصدقہ تفصیلات کو قطعی حقیقت کے طور پر پیش نہ کرنا بھی ضروری ہے۔ عقیدت کی مضبوطی علمی دیانت کے ساتھ کم نہیں ہوتی، بلکہ مزید گہری ہوتی ہے۔
فاطمیہ: صرف گریہ نہیں، بیداری کا پیغام
ایامِ فاطمیہ میں گریہ و عزاداری محبتِ اہلِ بیتؑ کا ایک اہم اظہار ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری عزاداری ہماری زندگیوں میں کوئی تبدیلی پیدا کرتی ہے؟
اگر ہم حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت پر گریہ کریں لیکن خود کسی کمزور کا حق پامال کریں، اگر ہم آپؑ کی عفت کا ذکر کریں لیکن اپنی زبان کو غیبت اور تہمت سے محفوظ نہ رکھیں، اگر ہم آپؑ کی عبادت کے فضائل بیان کریں لیکن نماز اور حقوق العباد میں غفلت برتیں، تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
فاطمیہ کا پیغام یہ ہے کہ غم کو شعور میں، محبت کو عمل میں، عقیدت کو اخلاق میں اور مجلس کو اصلاحِ نفس میں تبدیل کیا جائے۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم سچ بولیں، امانت کی حفاظت کریں، دوسروں کے حقوق ادا کریں، مظلوموں کا ساتھ دیں، علم حاصل کریں اور اپنے کردار کو بہتر بنائیں۔
مجلسِ عزا سے اٹھنے کے بعد اگر ہماری زبان میں نرمی، ہمارے معاملات میں انصاف، ہمارے دل میں رحم اور ہمارے کردار میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے تو یہ عزاداری کی تربیتی برکت ہے۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور خواتین کی عظمت
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت خواتین کے لیے عزت، خودداری اور علمی شعور کا پیغام رکھتی ہے۔ آپؑ کی زندگی یہ ثابت کرتی ہے کہ عورت کی عظمت صرف کسی کی بیٹی، بیوی یا ماں ہونے میں محدود نہیں، بلکہ اس کی اپنی معرفت، عبادت، فکر، کردار اور دینی ذمہ داری میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔
آپؑ ایک مثالی بیٹی تھیں، لیکن ساتھ ہی علم و معرفت کی حامل خاتون بھی تھیں۔ آپؑ ایک مثالی شریکِ حیات تھیں، لیکن حق و انصاف کے معاملے میں اپنا موقف پیش کرنے والی شخصیت بھی تھیں۔ آپؑ ایک عظیم ماں تھیں، لیکن آپؑ کی عظمت صرف مادری نسبت تک محدود نہیں تھی۔
آج کی مسلمان خاتون کو آپؑ کی سیرت سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ علم اور عفت، خودداری اور تواضع، خاندانی ذمہ داری اور سماجی خدمت ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ ایک خاتون دینی علوم حاصل کر سکتی ہے، قرآن و حدیث کا مطالعہ کر سکتی ہے، بچوں اور خواتین کی تربیت کر سکتی ہے، معاشرے کے مسائل کو سمجھ سکتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق خدمت انجام دے سکتی ہے۔
عورت کی حقیقی ترقی وہ ہے جس میں علم کے ساتھ اخلاق، خوداعتمادی کے ساتھ ذمہ داری اور صلاحیت کے ساتھ خدا خوفی بھی موجود ہو۔
طالباتِ حوزہ کے لیے پیغامِ فاطمی
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت بالخصوص ان طالبات کے لیے اہم ہے جو دین کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور مستقبل میں معاشرے کی فکری و اخلاقی رہنمائی کی ذمہ داری ادا کرنا چاہتی ہیں۔
ایک طالبۂ علم کے لیے صرف کتابیں پڑھنا کافی نہیں؛ ضروری ہے کہ وہ علم کے ساتھ تقویٰ، مطالعے کے ساتھ تحقیق، تقریر کے ساتھ عمل اور عبادت کے ساتھ حسنِ اخلاق بھی پیدا کرے۔
طالبات کو چاہیے کہ قرآن مجید کی آیات کو سمجھ کر پڑھیں، حدیث کے بنیادی مصادر سے واقف ہوں، تاریخِ اسلام کا مطالعہ تحقیق کے ساتھ کریں اور اختلافی مسائل میں دلیل و احترام کو مقدم رکھیں۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے نسبت کا تقاضا یہ ہے کہ طالبات اپنے علم کو فخر و برتری کا ذریعہ نہ بنائیں، بلکہ خدمت کا وسیلہ بنائیں۔ اپنے اساتذہ کا احترام کریں، ساتھی طالبات کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کریں، وقت کی پابندی کریں، اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کریں اور معاشرے کی ضرورتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
حوزہ علمیہ کی کامیابی صرف فارغ التحصیل طالبات کی تعداد سے نہیں، بلکہ ان کے علم، کردار، بصیرت اور خدمت کے اثرات سے بھی پہچانی جانی چاہیے۔
مدرسہ فاطمیہ جیسے اداروں میں ایامِ فاطمیہ کو سیرت کے مطالعے، خطبۂ فدکیہ کی تدریس، علمی مباحث، تقریری تربیت اور خدمتِ خلق کے ساتھ مربوط کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی یاد نئی نسل کے کردار کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
عفت، حیا اور خودداری کا فاطمی تصور
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت میں عفت و حیا کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن عفت کا مفہوم صرف لباس یا ظاہری وضع قطع تک محدود نہیں۔ اس میں زبان کی پاکیزگی، نگاہ کی حفاظت، تعلقات میں حدود کی رعایت، کردار کی سچائی اور اپنی عزتِ نفس کی حفاظت بھی شامل ہیں۔
اسی طرح حیا کا مطلب خاموشی اختیار کر کے ہر ناانصافی کو برداشت کرنا نہیں۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے منسوب خطبۂ فدکیہ اس بات کی مثال ہے کہ وقار و حیا کے ساتھ اپنے موقف کو واضح اور مدلل انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
آج کی خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دینی شناخت پر اعتماد رکھیں، علم حاصل کریں، اپنے حقوق و فرائض کو سمجھیں اور حکمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
فاطمی کردار کی پیروی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ظاہر اور باطن دونوں پاکیزہ ہوں، اس کی زبان سچائی کی عادی ہو، اس کے معاملات انصاف پر قائم ہوں اور اس کا علم اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرے۔
خاندان کی تعمیر اور تربیتِ نسل
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا گھرانہ اسلامی تاریخ میں تربیت، عبادت، ایثار اور استقامت کی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیات کو سمجھنے کے لیے اس گھرانے کی تربیتی فضا بھی اہمیت رکھتی ہے۔
بچوں کی تربیت صرف نصیحت کرنے سے نہیں ہوتی، بلکہ والدین کے عملی کردار، گھر کے ماحول اور روزمرہ معاملات سے بھی ہوتی ہے۔ اگر گھر میں سچائی، احترام، مطالعہ، عبادت اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کو اہمیت دی جائے تو بچوں کی شخصیت میں بھی یہ اقدار پیدا ہو سکتی ہیں۔
ایک مثالی خاندان وہ ہے جہاں عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں، بچوں کی علمی و اخلاقی تربیت میں حصہ لیں اور ذمہ داریوں کو انصاف کے ساتھ ادا کریں۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ معاشرے کی اصلاح خاندان سے شروع ہوتی ہے، اور خاندان کی مضبوطی محبت، احترام، ذمہ داری اور اخلاقی تربیت سے پیدا ہوتی ہے۔
عصرِ حاضر میں پیغامِ فاطمی کی ضرورت
آج کا انسان معلومات کی فراوانی کے باوجود فکری انتشار، اخلاقی کمزوری، معاشرتی دباؤ اور تعلقات کی پیچیدگیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں چند بنیادی اصول یاد دلاتی ہے۔
علم: علم کے بغیر انسان آسانی سے غلط فہمیوں اور غیر مصدقہ باتوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
تقویٰ: علم کو اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔
بصیرت: ہر مقبول بات درست نہیں ہوتی؛ تحقیق، دلیل اور غور و فکر ضروری ہیں۔
عدل: اپنے اور دوسروں کے حقوق کے معاملے میں انصاف سے کام لینا چاہیے۔
خدمت: انسان کی صلاحیتیں دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال ہونی چاہییں۔
استقامت: حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن اصولوں پر قائم رہنا شخصیت کی مضبوطی کی علامت ہے۔
یہی وہ اقدار ہیں جن کے ذریعے پیغامِ فاطمی فرد کی زندگی سے نکل کر خاندان، تعلیمی ادارے اور پورے معاشرے تک پہنچ سکتا ہے۔
ایامِ فاطمیہ اور ہماری ذمہ داری
ایامِ فاطمیہ ہمیں صرف ماضی کی یاد میں غمگین ہونے کے لیے نہیں بلاتے، بلکہ اپنے حال کو بہتر بنانے اور مستقبل کو سنوارنے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ان ایام میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کا مطالعہ کریں، ان کے فضائل کو معتبر مآخذ سے سمجھیں، ان سے منسوب خطبات اور دعاؤں پر غور کریں اور ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں جگہ دیں۔
ہم اپنی مجالس کو علم و معرفت سے آراستہ کریں، اپنے گھروں میں اخلاقی تربیت کو فروغ دیں، اپنی طالبات میں مطالعے اور تحقیق کا شوق پیدا کریں اور ضرورت مندوں کی مدد کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھیں۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی یاد ہمیں یہ عہد کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم حق کی حمایت کریں گے، کسی کا حق نہیں ماریں گے، علم کو امانت سمجھیں گے، خواتین اور بچوں کی عزت و تربیت کا خیال رکھیں گے اور اختلاف کے باوجود انصاف و اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔
اختتامی کلمات
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی ایمان و عبادت، علم و معرفت، عفت و خودداری اور حق پر استقامت کی ایسی روشن مثال ہے جس سے ہر دور کی نسل رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔
آپؑ کی مظلومیت ہمیں حق و انصاف کی اہمیت یاد دلاتی ہے، آپؑ کی عبادت ہمیں خدا سے تعلق مضبوط کرنے کی دعوت دیتی ہے، آپؑ کا علمی مقام ہمیں مطالعے اور تحقیق کی طرف متوجہ کرتا ہے، اور آپؑ کی سیرت ہمیں اپنے کردار کو سنوارنے کا سبق دیتی ہے۔
ایامِ فاطمیہ کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ محبتِ زہرا سلام اللہ علیہا ہمارے دلوں میں ایمان، ہمارے ذہنوں میں بصیرت، ہمارے کردار میں تقویٰ اور ہمارے معاشرے میں عدل و خدمت پیدا کرے۔
آئیے، ان ایام میں ہم صرف یہ نہ کہیں کہ ہم حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے محبت کرتے ہیں، بلکہ اپنی زندگیوں سے اس محبت کی گواہی بھی دیں۔ ہماری نماز، ہمارا اخلاق، ہماری تعلیم، ہماری گفتگو، ہمارے معاملات اور ہماری خدمت اس محبت کا عملی اظہار بنیں۔
سلام ہو اس عظیم خاتون پر جس نے اپنی زندگی کو بندگیِ خدا سے آراستہ کیا، حق کی حمایت میں استقامت دکھائی اور تاریخِ اسلام میں ایمان و وفا کا روشن باب رقم کیا۔
السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا فَاطِمَةَ الزَّهْرَاءُ، يَا بِنْتَ رَسُولِ اللّٰهِ، وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ۔










آپ کا تبصرہ